مکیش امبانی نوجوانوں کیلئے ایک مثال
مکیش دھروبھائی امبانی انڈیا کے سب سے بڑے کاروباری شخصیت ہے۔ انکا شمار نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا کے امیر ترین اشخاص میں ہوتا ہے۔ مکیش جی دنیا کے امیر ترین اشخاص میں اٹھارویں نمبر پر ہے۔ وہ رلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے چئیرمین، منیجنگ ڈائریکٹر اور سب سے بڑے حصہ دار ہے۔
مکیش دھروبھائی امبانی 19 اپریل 1957 کو یمن کے شہر ایدن میں دھروبھائی امبانی اور کوکی لابن امبانی کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1958 میں مکیش جی کو اپنے والد نے انڈیا منتقل کرلیا اور وہاں مکمل سکونت اختیار کرلی۔ انڈیا منتقل ہوجانے کے بعد انکے والد نے سپائسز کا کاروبار شروع کیا۔ کچھ عرصے کے بعد سپائسز کا کاروبار چھوڑ کر ٹیکسٹائل کے کاروبار سے ناطہ جوڑ لیا۔ انڈین بزنس ٹائیکون اپنے جوانی کے دنوں میں فٹ بال، ہاکی اور سیر وتفریح کیا کرتے۔
مکیش امبانی کی کاروباری زندگی کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب اندرا گاندھی کے دور حکومت میں مکیش کے والد نے پولیستر فلامنٹ یارن کے مینوفیکچرنگ کا لائسنس حاصل کرلیا۔ دھروبھائی امبانی نے پولیستر فلامنٹ یارن پلانٹ نصب کرنے کیلئے اپنے بڑے بیٹے مکیش دھروبھائی امبانی کو سٹینفورڈ یونیورسٹی سے جہاں وہ اپنے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کررہے تھے سے نکال کر اپنے کاروبار میں لاکھڑا کیا۔ مکیش امبانی نے اس وقت کاروباری دنیا میں قدم رکھا اور پھر کبھی بھی واپس مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1986 میں اپنے والد کو فالج لگنے کے بعد کاروبار اور گھر بھار کی تمام ذمہ داری مکیش امبانی کے کندھوں پر آگئی۔ پیٹرو کیمیکل کے کاروبار میں تو انہوں نے پہلے سے ہی قدم رکھ لیا تھا لیکن اب ایک نیا کاروبار ریلائنس انفوکام لمیٹڈ جو کہ انفارمیشن و کمیونیکیشن سے متعلق تھا بھی شروع کرلیا۔
ابھی مکیش امبانی کی عمر صرف 24 سال ہی تھی جن انہیں پٹال گنگا پیٹروکیمیکل پلانٹ کی تعمیر کا چارج دیا گیا۔ 2002 میں اپنے والد کی وفات کے بعد مکیش اور انیل کے درمیان کاروبار کو بٹوارا ہوگیا۔ اس طرح مکیش امبانی کے حصے میں ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ اور انڈین پیٹروکیمیکلز کارپوریشن لیمیٹڈ آیا۔ انڈین پیٹروکیمیکلز ارپوریشن لیمیٹڈ کی منظوری 2005 میں بمبئی ہائی کورٹ نے دی۔ جس کے بعد مکیش امبانی کا کاروبار مزید بڑھتا گیا اور انہوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گھاڑیں۔
انہیں س ارنسٹ اینڈ ینگ انٹریپیونر انڈیا، ایشیا سوسائٹی، این ڈی ٹی وی، فائنانشل کرونیکل، یونیورسٹی آف پینسلوینیا، ہارورڈ بزنس ریویو، بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ، ایم ایس یونیورسٹی آف بارودا، انڈیا لیڈرشپ کنکلیو اینڈ انڈین افئیرز بزنس لیڈرشپ ایوارڈ، نیشنل اکیڈمی آف انجینئیرنگ اور کیمیکل ہیری ٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے ایورڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔
کاروباری زندگی سے ہٹ کر اگر ذاتی یا نجی زندگی میں بات کیجائے تو نیتا نامی عورت سے 1984 میں انکی شادی ہوئی۔ جس کے بدن سے انکے دو بیٹے آننت اور آکاش اور بیٹی ایشا پیدا ہوئیں۔ مکیش امبانی اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ 27 منزلہ عمارت انتیلیا بلڈنگ میں رہائش پذیر ہیں۔ انتیلیا بلڈنگ 570 فٹ بلند عمارت ہے جس میں 160 گاڑیوں کیلئے گیرج اور تین ہیلی پیڈ موجود ہیں۔ اسکے علاوہ اس عمارت میں ذاتی سینیما گھر، سومنگ پول اور فٹنس سنٹر کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہیں۔ ان سب کے علاوہ انڈین پریمئیر لیگ میں ممبئی انڈینز کے نام سے مشہور کرکٹ ٹیم بھی مکیش امبانی ہی کی ہے۔ حال ہی میں مکیش امبانی کی بیٹی ایشا امبانی کی شادی کی تقریب ممبئی میں ہوئی جس میں بالی ووڈ کے کئی ستاروں نے شرکت کیں اور اپنے ڈانس کے جوہر دکھائے۔ مکیش امبانی کی کاروباری زندگی سے ہمارے نوجوان طبقے کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ممبئی جیسے شہر میں جہاں ہر وقت غنڈا راج رہتا ہے ایک نوجواں سالہ مکیش امبانی اتنا بڑا بزنس مین بن سکتا ہے تو ہمارے پرامن پاکستان میں ہمارے جوان کیوں نہیں بن سکتے۔ تمام نوجوانوں کو اس کہانی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

