Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

وفاقی وزیر فواد چوہدری کی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

ملک میں جاری خودساختہ میڈیا بحران حکومت اور میڈیا مالکان کا گٹھ جوڑ ہے،  اعلامیہ






رپورٹ: محمد عباس

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شکیل قرار نے ویڈیو پیغام جاری کیا  جس میں انہوں نے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے نیشنل پریس کلب میں داخلے پر پابندی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ یہ فیصلہ نیشنل پریس کلب نے اسلام آباد کی تمام 
صحافتی تنظیموں سے باہمی مشاورت کے بعد کیا۔




سیکرٹری این پی سی انور رضا کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری میڈیا بحران خود ساختہ ہے جس کی آڑ میں ملازمین کو جبرا برطرف اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کرکے انکو ہراساں کیا جارہا ہے۔
اس صورتحال پر جڑواں شہروں کے صحافی برادری، مالکان اور حکومت کی بے حسی پر سراپا احتجاج ہے۔ جبکہ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میڈیا بحران حکومت اور میڈیا مالکان کا گٹھ جوڑ ہے۔ 
نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے راست اقدام نہ اٹھایا اور مالکان کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ روکا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت اور میڈیا مالکان پر ہوگی۔ 

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان آمد سے قبل ثمرات ملنا شروع


پاکستانیوں کیلئے ویزٹ ویزا کی فیس میں کمی کا اعلان،  سعودی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کردیا


رپورٹ: محمد عباس

اسلام آباد میں واقع سعودی عرب کے سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کیا۔ جس میں پاکستانیوں کیلئے ویزٹ ویزا کی فیس میں کمی کی منظوری دی گئی۔ 
اس سے قبل سنگل انٹری ویزٹ ویزا  کی فیس 2000 سعودی ریال تھی جو کہ کم کرکے 338 سعودی ریال کردی گئی ہے۔
جبکہ ملٹی پل انٹری ویزٹ ویزا کی فیس پہلے 3000 سعودی ریال تھی، جسکو کم کرکے 675 سعودی ریال کردی گئی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وی آئی پی وزٹ کے پیش نظر متبادل ٹریفک پلان تیار

وفاقی دارلحکومت میں ڈبل سواری پر پابندی عائد، خلاف ورزی کرنے والے کیخلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی کا فیصلہ

رہورٹ:  محمد عباس



سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد کے سلسلہ میں سیکورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ روات ٹی کراس، کاک پل سے بجانب کرال چوک اسلام آباد ایکسپریس وے، 26 نمبر چونگی سے کشمیر ہائی وے،   کٹاریاں پل اور نائنتھ ایوینیو آئی جے پی روڈ سے بجانب فیض آباد، سترہ میل پلازہ سے  بجانب اسلام آباد مری روڈ  اسلام آباد آنے والی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا۔
ان تمام مقامات پر ہیوی ٹریفک کو متبادل راستوں کی اطراف میں موڑ دیا جائے گا۔ جن کی ترتیب کچھ یوں ہے: روات ٹی کراس سے سوہان گارڈن، کچہری چوک، راولپنڈی صدر سے پشاور جی ٹی روڈ موٹروے، کاک پل سے پی ڈبلیو ڈی سے سوہان گارڈن، کچہری چوک راولپنڈی صدر پشاور روڈ سے موٹروے، 26 نمبر چونگی سے بجانب راولپنڈی پشاور جی ٹی روڈ اور موٹروے، آئی جے پی روڈ سے بجانب پشاور روڈ، اور مری،آزاد کشمیر سے آنے والی ٹریفک کو مری موٹروے 
کے اطراف میں موڑ دیا جائے گا۔ 
سعودی علی عہد کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد میں ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی، جسکا اطلاق 16 فروری سے 17 فروری تک ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی کیجائے گی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

نواب محمد یوسف تالپور کمیٹی برائے آبی وسائل کے چئیرمین منتخب

رپورٹ: محمد عباس
نواب محمد یوسف تالپور کوپارلیمنٹ ہاؤس میں آج میٹنگ کے دوران کمیٹی برائے آبی وسائل کا چئیرمین منتخب کیا گیا۔ جس پر نومنتخب چئیرمین نے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کمیٹی کے امور کو اتفاق رائے سے چلانے کی یقین دہانی کرائی۔
 اس موقع پر تمام اراکین نے نومنتخب چئیرمین کے خیالات کو سراہتے ہوئے قانون سازی میں مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقیین دہانی کرائی۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے علی نواز اعوان کیجانب سے نواب محمد یوسف تالپور کا نام تجویز کیا گیا تھا۔
خصوصی سیکرٹری برائے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اراکین کا خیرمقدم کرتے ہوئے چئیرمین کے انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔ بعد ازاں خصوصی سیکرٹری برائے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نومنتخب  چئیرمین کو مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
میٹنگ میں قومی اسمبلی کے اراکین علی نواز اعوان، چوہدری شوکت علی بھٹی، محمد فاروق اعظم ملک، نورین فاروق خان، کنول شاہزیب،  چوہدری محمد حامد حمید، احسان الرحمن مزاری اور منیرخان اورکزئی کے علاوہ پارلیمنٹ کے اعلٰی اافسران نے بھی شرکت کیں۔  

ٹرمپ-کیم کی ملاقات 

Image result for trump kim images 

ٹرمپ-کیم کی اگلی ملاقات ویتنام میں ہوگی، وینزویلا کے اپوزیشن لیڈر کی مکمل حمایت کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کیم جان ین کے ساتھ ملاقات رواں ماہ کی 27 اور 28 تاریخ کو ویتنام میں ہوگی۔ ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے لیڈر کو نوکلئیر پروگرام کو روکنے پر آمادہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات گزشتہ سال سنگاپور میں ہوئی تھی، جس میں کیم جان نے ڈی نیوکلرائیزیشن کا عندیہ تھا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ، "کوریا کے تناسل کے ساتھ ہم اپنی امن کی کاوشوں کو جاری رکھیں گے"۔ مزید برآں امریکی صدر نے کہا کہِ،"ہمارے سارے یرغمال لوگ گھروں کو واپس آچکے ہیں، جبکہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران کوئی بھی مزائل کا تجربہ نہیں کیا گیا ، جسکا مطلب نیوکلئیر ٹیسٹنگ کا عمل رکھ چکا ہے"۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے اپوزیشن لیڈر جوان گائیڈوجنہوں نے گزشتہ ماہ خود کو وینزویلا کے عبوری صدر کے طور پر اعلان کیا تھا کی حمایت جاری رکھنے کا اظہار کیا۔ یادرہے کہ وینزویلا کے سابق صدر نکالس مادورو نے گائیڈو اور اسکے اتحادیوں پر بغاوت کا الزام لگایا ہے۔ مادورو نے امریکا اور دیگر بیرونی قوتوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے صدارت کے عہدے سے ہٹاکر وینزویلا پر معاشی جنگ مسلط کردی ہے۔
دریں اثناء صدر ٹرمپ نے شام وافغانستان سے افواج کے انخلا کا عندیہ دیا جبکہ ایران کو اسرائیل کیلئے خطرہ قرار دیا۔

ٹرمپ کا سٹیٹ آف دی یونین خطاب

دو سال تک مخالفین پر کڑی و بے جا تنقید کے بعد بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں  باہمی اتحاد اور پارلیمنٹ کے تعاون کا مطالبہ کیا۔

Image result for donald trump images 

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر کا بیان انتہائی اہم وقت میں سامنے آیا، سرحدی سکیورٹی کے ممسئلہ کی بناء پر ٹرمپ انتظامیہ کو لمبے عرصے تک ڈیموکریٹس کی جانب سے  ہڑتالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اور ہڑتال کی ڈیڈلائن قریب ہونے پر صدر ٹرمپ نے کانگریس کو امریکہ میکسیکو سرحد پر  دیوار نصب کرنے کیلئے کانگریس سے فنڈز لینے کیلئے کچھ اختیاراات کا استعمال کیا۔

اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ "غیر قانونی امیگریشن کے علاوہ کوئی واحد مسئلہ ایسا نہیں جو کہ امریکہ کی سیاسی طبقے اور محنت کش طبقے میں فرق کو واضح کرسکے۔" ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ، "دولت مند سیاستدان اور ڈونرز آزاد بارڈرز پر زور تو دیتے ہیں لیکن وہ خود بڑی بڑی چاردیواریوں، دروازوں اور چوکیداروں کے پیچھے رہتے ہیں"۔  ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ، "جس دیوار کو ڈیموکریٹس مہنگا، غیر موثر اور غیر اخلاقی کہہ رہے ہیں میں یہ دیوار ضرور بناؤنگا"۔

اپنی تقریر کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے خدشہ ظآہر کیا کہ، " سینٹرل امریکہ کے لوگ اپنے ملکوں میں انتہا پسندی اور غربت کے باعث اس بارڈر سے امریکہ میں گھس کر سیاسی پناہیں لے رہے ہیں"۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ، " ہزاروں امریکی شہری منشیات سے مررہے ہیں جو کہ اس بارڈر کے ذریعے امریکہ کے چپے چپے میں پھیلائے جاتے ہیں"۔ 

حج پر سیاست
موجودہ حکومت نے رواں سال 2019ء کیلئے حج سکیم کا اعلان کیا۔ جس کے تحت حکومت نے حج سکیم پر سبسڈی ختم کردی اور اسطرح حج اخراجات میں 156975 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اس سال شمالی زون کے حج4،36،975 روپے اور جنوبی زون کے 4،26،975 روپے ہونگے۔ جو کہ گزشتہ سال بالترتیب 2،80،000 اور 2،70،000 تھے۔ رواں سال 1،79،210 پاکستانی حج کا فریضہ ادا کرینگے۔ وزارت مذہبی امور نے 45،000 روپے فی حاجی سبسڈی منظور کرانے  کی سفارش کی جو کہ وفاقی کابینہ نے مسترد کردی۔   سرکاری کوٹہ 60 فی صد، پرائیویٹ کوٹہ 40 فیصد، معذکتوروں کیلئے1۔5 فیصد، جبکہ بزرگ شہریوں کیلئے 10 ہزار افراد کا کوٹہ مختص کیا گیا۔ جبکہ وفاقی کابینہ نے اس سال حج کیلئے  کوئٹہ اور فیصل آباد سے براہ راست پروازیں چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے گلگت بلتستان کا حج کیمپ لگانے کے ساتھ ساتھ 20 فروری سے حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ کیا۔
وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن میدان میں اتر آئی اور حکومت پر تیر برسائے گئے۔ یہاں جتنے منہ اتنی باتیں سننے کو ملی۔ کسی نے کہا کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت نے عوام کا مکہ اور مدینہ جانا مشکل بنا دیا، تو کسی نے یہ الزام لگایا کہ حکومت نے حج کو ذریعہ آمدن بنادیا۔ الزامات کی بارش کا سلسلہ یہاں نہیں تھما بلکہ مزید آگے بڑھتا گیا، ایک صاحب نے اس فیصلے کو حاجیوں پر ڈرون حملہ قرار دیا۔ تو ایک صاحب نے حج کو سونامی کی زد میں گردانا۔ ایک اور مجاہد اپوزیشن بول پڑے کہ موجودہ حکومت نیکی کاراستہ بند جبکہ  برائی کا راستہ کھول رہی ہے۔
جس پر حکومت کیجانب سے یہ کہا گیا کہ ریاست مدینہ کا مطلب  غریبوں کے پیسے سے لوگوں کو مفت حج کرانا نہیں، بلکہ عوام کو ریلیف دینا ہے۔ جس کی کوشش حکومت کرتی رہیگی۔ حکومتی اراکین نے حج سبسڈی کو عبادت کے بینادی فلسفے سے متصادم قرار دیا۔ مزید کہا کہ جس کے پاس پیسہ ہوگا وہ حج کریگا۔
حج ایک بنیادی فریضہ ہے جو کہ استطاعت رکھنے والوں پر فرض ہے۔ ہر وہ صاحب استطاعت شخص جو جیب سے حج کے اخراجات ادا کرسکتے ہوں۔ لیکن افسوس کہ ہم لوگوں اس فریضہ بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کو بھی کیش کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی کسی کو نیا اقتدار ملا تو اسنے ماڈرن مسلمان ہونے کا دعوی کیا۔ لیکن جب اقتدار کو خطرات درپیش ہوئے تو اسلام کا سہارہ لیا۔ ہمیں اپنا یہ رویہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ترک کرنا ہوگا۔ اسلام کو سیاست کی بھینٹ  چڑھانے سے اجتناب کرنا ہوگا ورنہ ہم بھی تاریخ کاحصہ بن کر رہ جائینگے۔