Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

مکیش امبانی نوجوانوں کیلئے ایک مثال


مکیش دھروبھائی امبانی انڈیا کے سب سے بڑے کاروباری شخصیت ہے۔ انکا شمار نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا کے امیر ترین اشخاص میں ہوتا ہے۔ مکیش جی دنیا کے امیر ترین اشخاص میں اٹھارویں نمبر پر ہے۔ وہ رلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے چئیرمین، منیجنگ ڈائریکٹر اور سب سے بڑے حصہ دار ہے۔
مکیش دھروبھائی امبانی 19 اپریل 1957 کو یمن کے شہر ایدن میں دھروبھائی امبانی اور کوکی لابن امبانی کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1958 میں مکیش جی کو اپنے والد نے انڈیا منتقل کرلیا اور وہاں مکمل سکونت اختیار کرلی۔ انڈیا منتقل ہوجانے کے بعد انکے والد نے سپائسز کا کاروبار شروع کیا۔ کچھ عرصے کے بعد سپائسز کا کاروبار چھوڑ کر ٹیکسٹائل کے کاروبار سے ناطہ جوڑ لیا۔ انڈین بزنس ٹائیکون اپنے جوانی کے دنوں میں فٹ بال، ہاکی اور سیر وتفریح کیا کرتے۔
مکیش امبانی کی کاروباری زندگی کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب اندرا گاندھی کے دور حکومت میں مکیش کے والد نے پولیستر فلامنٹ یارن کے مینوفیکچرنگ کا لائسنس حاصل کرلیا۔ دھروبھائی امبانی نے پولیستر فلامنٹ یارن پلانٹ نصب کرنے کیلئے اپنے بڑے بیٹے مکیش دھروبھائی امبانی کو سٹینفورڈ یونیورسٹی سے جہاں وہ اپنے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کررہے تھے سے نکال کر اپنے کاروبار میں لاکھڑا کیا۔ مکیش امبانی نے اس وقت کاروباری دنیا میں قدم رکھا اور پھر کبھی بھی واپس مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1986 میں اپنے والد کو فالج لگنے کے بعد کاروبار اور گھر بھار کی تمام ذمہ داری مکیش امبانی کے کندھوں پر آگئی۔ پیٹرو کیمیکل کے کاروبار میں تو انہوں نے پہلے سے ہی قدم رکھ لیا تھا لیکن اب ایک نیا کاروبار ریلائنس انفوکام لمیٹڈ جو کہ انفارمیشن و کمیونیکیشن سے متعلق تھا بھی شروع کرلیا۔
ابھی مکیش امبانی کی عمر صرف 24 سال ہی تھی جن انہیں پٹال گنگا پیٹروکیمیکل پلانٹ کی تعمیر کا چارج دیا گیا۔ 2002 میں اپنے والد کی وفات کے بعد مکیش اور انیل کے درمیان کاروبار کو بٹوارا ہوگیا۔ اس طرح مکیش امبانی کے حصے میں ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ اور انڈین پیٹروکیمیکلز کارپوریشن لیمیٹڈ  آیا۔ انڈین پیٹروکیمیکلز ارپوریشن لیمیٹڈ کی منظوری  2005 میں بمبئی ہائی کورٹ نے دی۔ جس کے بعد مکیش امبانی کا کاروبار مزید بڑھتا گیا اور انہوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گھاڑیں۔
انہیں س ارنسٹ اینڈ ینگ انٹریپیونر انڈیا، ایشیا سوسائٹی، این ڈی ٹی وی، فائنانشل کرونیکل، یونیورسٹی آف پینسلوینیا،  ہارورڈ بزنس ریویو، بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ، ایم ایس یونیورسٹی آف بارودا، انڈیا لیڈرشپ کنکلیو اینڈ انڈین افئیرز بزنس لیڈرشپ ایوارڈ، نیشنل اکیڈمی آف انجینئیرنگ اور کیمیکل ہیری ٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے ایورڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔
کاروباری زندگی سے ہٹ کر اگر ذاتی یا نجی زندگی میں بات کیجائے تو نیتا نامی عورت سے 1984 میں انکی شادی ہوئی۔ جس کے بدن سے انکے دو بیٹے آننت اور آکاش اور بیٹی ایشا پیدا ہوئیں۔ مکیش امبانی اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ 27 منزلہ عمارت انتیلیا بلڈنگ میں رہائش پذیر ہیں۔ انتیلیا بلڈنگ 570 فٹ بلند عمارت ہے جس میں 160 گاڑیوں کیلئے گیرج اور تین ہیلی پیڈ موجود ہیں۔ اسکے علاوہ اس عمارت میں ذاتی سینیما گھر، سومنگ پول اور فٹنس سنٹر کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہیں۔ ان سب کے علاوہ انڈین پریمئیر لیگ میں ممبئی انڈینز کے نام سے مشہور کرکٹ ٹیم بھی مکیش امبانی ہی کی ہے۔ حال ہی میں مکیش امبانی کی بیٹی ایشا امبانی کی شادی کی تقریب ممبئی میں ہوئی جس میں بالی ووڈ کے کئی ستاروں نے شرکت کیں اور اپنے ڈانس کے جوہر دکھائے۔ مکیش امبانی کی کاروباری زندگی سے ہمارے نوجوان طبقے کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ممبئی جیسے شہر میں جہاں ہر وقت غنڈا راج رہتا ہے ایک نوجواں سالہ مکیش امبانی اتنا بڑا بزنس مین بن سکتا ہے تو ہمارے پرامن پاکستان میں ہمارے جوان کیوں نہیں بن سکتے۔ تمام نوجوانوں کو اس کہانی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔


   

 سکواش کی دنیا کا راجا



آج سکواش کے میدان سے کرہ ارض پر اپنی پہچان بنانے والی ہستی "جہانگیر خان" کا جنم دن ہے۔ جہانگیر خان 10 دسمبر 1963 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد کا دراصل پشاور کے علاقے نوے کلی سے تعلق ہے۔
جہانگیر خان نے ابتدائی کوچنگ اپنے والد "روشن"،  بڑے بھائی طورسم اور کزن رحمت خان سے حاصل کیں۔
بچپن میں جہانگیر خان کے کئی ہرنیا آپریشن ہوئے جسکی وجہ سے وہ کافی کمزور تھے اور اسی بنا پر ڈاکٹروں نے انہیں جسمانی مشقت و کھیل کود سے دور رکھنے کی ہدایت کی۔ 1979 میں جسمانی کمزوری ہی کے باعث پاکستانی سلیکٹرز نے انہیں عالمی چیمپئین شپ  جو کہ آسٹریلیا میں کھیلی جانی تھی کیلئے منتخب نہیں کیا۔ جس پر جہانگیر خان نے ایک لوکل چیمپئین شپ ایونٹ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ چیمپئین شپ اپنے نام کرلی۔ اس وقت انکی عمر 15 برس تھی اور ساتھ یہ چیمپئین شپ جیتننے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
نومبر 1979 میں جہانگیر خان کے بڑے بھائی طورسم کی آسٹریلیا میں  سکواش ٹورنامنٹ میچ کے دوران دل کے دورے سے اچانک موت ہوگئی۔ جس پر پہلے تو انہوں نے اس خاندانی کھیل سے دستبردار ہونے کا سوچا لیکن پھر انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے سکواش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیابیاں سمیٹنے لگے۔
70 کی دہائی میں سکواش کے میدان میں کھلبلی مچانے والے آسٹریلیا کے نامور کھلاڑی "جیاف ہنٹ" کو 1981 میں عالمی چیمپئین شپ کے فائنل میچ میں شکست دے کر یہ چیمپئن شپ اپنے نام کی، اس وقت انکی عمر 17 سال تھی اور یہ چیمپئین شپ جیتنے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز بھی انہوں نے اپنے نام کیا۔ اس ٹورنامنٹ سے جہانگیر خان نے جیت کا مزہ چکھا تو مسلسل 555 میچ میں ناقابل شکست رہے جسکا دورانیہ 5 سال اور 8 مہینے بنتا ہے یعنی کہ 1981 سے لیکر 1986 تک ناقابل شکست رہے۔ اسی دوران 1982 میں جہانگیر نے انٹرنیشنل سکواش پلئیرز ایسی ایشن چیمپئین شپ میں  ایک پوائنٹ بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور یہ ٹورنامنٹ بھی اپنے نام کیا ۔ بالآخر انکا یہ سفر 1986 میں تمام ہوا جب نیوزی لینڈ کے کھلاڑی "روز نارمن" نے انہیں شکست دی۔  اس ہار کے بعد جہانگیر خان دلبرداشتہ نہیں ہوئے اور وہ ایک بار پھر 9 ماہ تک ناقابل شکست رہے۔ یادرہے روز نارمن مسلسل پانچ سال تک جہانگیر خان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے تھے۔
جہانگیر خان 1982 سے 1993 کے دوران برٹش اوپن چیمپئین شپ 10 بار جیتتے رہے۔ جبکہ 6 بار عالمی اوپن چیمپئین شپ بِنا ایک گیم ڈراپ کئے جیتتے رہے۔ سکواش کی تاریخ میں دوسرا لمبا میچ  جوکہ 2 گھنٹے 46 منٹ جاری رہا  کھیلنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل رہا۔
جہانگیر خان نے 1993 میں کراچی میں کھیلی جانے والی ورلڈ ٹیم چیمپئین شپ میں فتح یابی کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ان کے اس اعلیٰ کھیل اور کامیابیوں پرانہیں "حسن کارکردگی" اور سول ایوارڈ "حلال امتیاز" سے بھی نوازا گیا۔  1990 میں وہ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے چئیرمین منتخب ہوئے۔ 1997 میں پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ جبکہ 1998 میں جہانگیر خان ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ سلسلہ یہاں نہیں رکھتا بلکہ 2002 میں وہ ورلڈ سکواش فیڈریشن ہی کے صدر منتخب ہوئے۔ 2004 میں دوبارہ وہ ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے اور 2008 تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔
جہانگیر خان کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے جیسے کہ وہ جیت کا مزہ بھی چکھتے رہے لیکن انکو کئی بار شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ایک اہم چیز انکی زندگی سے سیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے ہمت۔ حوصلہ۔ سو جس کے پاس ہمت ہے، جسکے حوصلے بلند ہو خواہ حالات کیسے بھی ہو، باہمت اور حوصلہ مند شخص اپنی منزل کی جانب گامزن رہتا ہے۔ آج سکواش کھیل کے راجا کا جنم دن ہے میری طرف سے انکو جنم دن مبارک ہو۔ آپ سب کو اپنے فیلڈ میں، اپنے شعبے میں جہانگیر خان بننے کی ضرورت ہے۔




سانحہ 12 مئی

سانحہ 12 مئی 2007 پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن سندھ کے دارالحکومت اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس وقت کی حکمران جماعت ایم کیو ایم اور اپوزیشن جماعتیں پی پی پی، اے این پی اور پی کے میپ کے کارکنان آمنے سامنے آگئے تھے۔ جنکے درمیان  خون ریز جھڑپیں ہوئی جس میں 48 کے لگ بھگ لوگ لقمہ اجل اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
جاں بحق افراد میں سے 15 افراد کا تعلق اے این پی، 14 کا تعلق پی پی پی اور دیگر کا تعلق پی کے میپ سے تھا۔
یہ واقع کیوں پیش آیا؟ اس کو جاننے کیلئے تھوڑا سا پیچھے جانا پڑے گا۔  لاپتہ افراد کے کیس اور پاکستان سٹیل ملز میں کرپشن کیس میں اس وقت کے حکومت اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے درمیان تنازعات پیدا ہوئے جسکی وجہ سے  9 مئی 2007 کو اس وقت کے حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے کے غلط استعمال اور دیگر الزامات کی بنا پر عہدے سے برطرف کیا۔  جس پر ملک بھر میں ہنگامے اور احتجاج شروع ہوئے۔ 12 مئی 2007 کو برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوئے جہاں پر انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے یوم قیام کے 50ویں سالگرہ کے تقریب میں شرکت اور وہاں خطاب کرنا تھا۔
حالات و واقعات کے پیش نظر اس وقت کے سندھ حکومت نے رات گئے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی قائم کی گئی۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو ڈیوٹی پر رہنے کی ہدایات بھی دی گئی۔ فائر بریگیڈ کے عملے کو بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی۔
چونکہ برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے محمد علی جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈنگ کرنی تھی تو اس ائیرپورٹ کو جانے والے تمام شاہراہیں بند کی گئی۔ جب 11 بجکر 50 منٹ پر چیف جسٹس کی فلائٹ کراچی ائیرپورٹ پر اتری تو شہر بھر میں ہنگامے بھرپا ہوئے۔ گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کو آگ لگائی گئی، فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ اس پر تشدد حالات کی وجہ سے اس وقت کے برطرف چیف جسٹس ائیر پورٹ پر ہی محصور ہوکر رہ گئے۔ حالانکہ مشرف حکومت نے انکو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جانے کی پیش کش کی جوکہ انہوں نے ٹھکرا دی اور بذریعہ سڑک سفر پر ڈھٹے رہے۔
ان تمام پر تشدد حالات میں میڈیا ہاؤسز کو بھی نہیں بخشا گیا۔ کئی میڈیا دفاتر پر حملے ہوئے۔ فائرنگ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی۔
ان تمام پرتشدد حالات کے پیش نظر اس وقت کے سندھ حکومت نے شام کو افتخار محمد چوہدری کو ڈپورٹ کرنے کا اعلامیہ جاری کیا۔ جس پر افتخار محمد چوہدری نے اپنے سپورٹرز سے خطاب کرنے کا فیصلہ معطل کیا اور سندھ حکومت سے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انکو سیکورٹی فراہم کیجائے گی اور انکے ہمراہ باقی وکیلوں کے وفد کو جانے دیا جائے گا۔
 اس واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر مزدور کار اور طلباء شامل تھے۔ حال ہی میں اینٹی ٹیرارزم کورٹ نے کراچی کے مئیر وسیم اختر اور دیگر  21 افراد  پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر مزید   گواہان کو طلب کرنے کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

جارج ایچ ڈبلیو بش امریکہ کے صدرکیسے بنے؟

     جارج ایچ ڈبلیو بش کے نام سے مشہور امریکہ کے 41ویں صدر کا پرانا نام جارج بش تھا۔ انکے بیٹے جارج ڈبلیو بش نے جب 2000 میں امریکی صدارتی انتخابات میں فتح پائی تو جارج بش کا نام جارج بش سینئیر یا پھر جارج ایچ ڈبلیو بش تمام حلقوں میں کہلانے لگا۔
      1941 میں  امریکہ کے 41ویں صدر نے فلپ اکیڈمی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد عین اٹھارہ سال کی عمر میں امریکی بحری فوج میں شمولیت اختیار کی۔ جب جاپان نے اچانک ہوائی میں پرل ہاربر پر حملہ کیا۔ اس دوسری جنگ عظیم میں جاپان کو شکست ہوئی، جسکی وجہ سےاعزازی طور پر 1947 جارج بش سینئیر کو ڈسچارج کیا گیا۔
      6 جنوری 1945 کو جارج ایچ ڈبلیو بش، باربرا پیرسہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ سابق امریکی صدر کے آنگن میں چھ بچوں نے آنکھ کھولی ۔
    نیوی سے ڈسچارج ہونے کے بعد سابق امریکی صدر نے ییل یونیورسٹی سے اکنامکس میں گریجویشن مکمل کیا۔ اور واپس مغربی  ٹیکساس اپنی فیملی کے پاس منتقل ہوئے اور وہاں آئل کے کاروبار سے منسلک ہوئے۔ جس میں کامیابی کے منازل تیز رفتاری سے طے کرتے ہوئے 1964 میں یعنی چالیس سال کی عمر میں ارب پتی بن گئے اور انہوں نے اپنی آئل کمپنی لگالی۔
    اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ امریکی سینیٹ انتخابات 1964 میں جوکہ انکا پہلا الیکشن تھا میں شکست ہوئی لیکن وہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز 1966 میں ٹیکساس سے منتخب ہوئے۔ یہ انکی سیاسی کیرئیر کی پہلی فتح تھی۔ 1968 میں وہ دوبارہ منتخب ہوئے۔ جبکہ انکو 1970 کے امریکی سینیٹ کے انتخابات میں دوبارہ ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔
    1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے جارج بش سینئیر کو یونائیٹڈ نیشن کیلئے امبیسیڈر منتخب کرلیا، جہاں انہوں نے دوسال تک فرائض سرانجام دیے۔ 1973 میں وہ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چئیرمین بن گئے۔ اسی سال امریکی صدر گیرالڈ فورڈ نے انکو چائینہ کیلئے ایمبیسیڈر منتخب کیا لیکن بعد میں انکو سی آئی اے کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔
     1980 میں رونلڈ ریگن امریکہ کے صدر جبکہ سینئیر بش نائب صدر منتخب ہوئے۔ جسکے بعد وہ آٹھ سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ اس دوران خاص طور پر منشیات کیخلاف کمربستہ رہے۔ 1988 کے امریکی صدارتی انتخابات میں جارج ایچ ڈبلیو بش نے کانگریس کے بل کلنٹن  کو شکست دیکر فتح حاصل کی اور وہ امریکہ کے 41ویں صدر کے طور پر منتخب ہوئے۔ جارج بش سینئیر 1993 تک صدر کے عہدے پر فائز رہے۔
   سینئیر بش بہت سارے معاشرتی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ سینئیر بش کے بیٹے جارج ڈبلیو بش 2000 کے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے اور امریکہ کے 43ویں صدر بنے۔ جبکہ انکے دوسرے بیٹے جیب بش امریکی ریاست فلوریڈا کے 43ویں گورنر رہے۔
     جارج ایچ ڈبلیو بش 30 نومبر 2018 کو 94 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ سینئیّر بش کو سب سے لمبی زندگی جینے والے امریکی صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

کرتار پور راہداری


اگست 2018 میں وزیراعظم  عمران خان کی حلف برداری کے موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی ملاقات بھارت سے آئے مہمان وزیر برائے سیاحت و ثقافت (بھارت) نوجوت سنگھ سدھو  سے ہوئی۔ اس دوران آرمی چیف نے گرونانک صاحب کی 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سدھو کو دی۔ جس کا اعلان نوجوت سنگھ سدھو نے وزیراعظم کی حلف برداری کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔
کرتار پور راہداری سکھوں کے مقدس مزارات ڈیرہ بابا نانک صاحب اور گردوارا دربار صاحب کو جوڑتا ہے جوکہ بالترتیب ہندوستان اور پاکستان میں واقع ہیں۔ اس راہداری کا بنیادی مقصد بھارت سے آنے والے سکھ زائرین کیلئے آسانی پیدا کرنا ہے۔ جبکہ اس راہداری سے پوری دنیا کو یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور  پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ کرتارپور کے راستے بھارت سے گردوارا دربار صاحب کی زیارت کرنے کیلئے سکھ برادری بغیر ویزہ کے آسکیں گے لیکن انہیں گردوارا دربار صاحب سے کہی اور نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد وزیراعظم عمران خان نے 28 نومبر 2018 کو ضلع نارووال میں رکھا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ دو ہندوستانی یونین منسٹرز ہرسمرت کور بادل، ہردیپ سنگھ پوری، ہندوستان کے وزیر برائے سیاحت وثقافت نوجوت سنگھ سدھو اور امرتسر کے ایم پی گرجیت سنگھ آجلا بھی ہمراہ تھے۔ کرتارپور کوریڈور کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، بھارتی وزیروں پر مشتمل وفد، مختلف ممالک کےسفارتکاروں، عالمی مبصرین اور سکھ برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔



اسلام آباد: جو لیڈر حالات کے مطابق یوٹرن نہ لے، وہ لیڈر ہی نہیں کیونکہ ہٹلر اور نپولین نے یوٹرن نہ لے کر بڑی شکست کھائی۔ وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات  کیں۔ ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے اپنے کرکٹ کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک حکمت عملی بناکر میدان میں اترتے تھے، اگر  جسکے خلاف اگر مخالف ٹیم کوئی اور حکمت عملی بنالیتی تھی تو ہمیں یک دم اپنی حکمت عملی بدلنا پڑتی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی گفتگو کے دوران نپولین اور ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ' جب  آپ جارہے ہوں اور سامنے دیوار ہو تو آپ کو اِدھر اُدھر راستہ تلاش کرنا چاہیے'۔ انکا کہنا تھا کہ 'جو لیڈر حالات کے مطابق یوٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں، جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں ہوتا، ہٹلر اور نپولین یوٹرن نہ لے کر نقصان میں گئے'۔
مزید برآں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'یوٹرن لینا اسٹریٹجی کا حصہ ہوتا ہے اور تاریخ میں بڑے بڑے لوگوں نے یوٹرن لے کر چیزیں بہتر کی ہیں'۔
 انہوں نے کہا کہ 'یوٹرن لینے اور جھوٹ بولنے میں فرق ہے، نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں، جھوٹ بولا'۔
دورہ چین پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دورۂ چین کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، اس بار چین کا دورہ جتنا کامیاب رہا کسی وزیراعظم کا دورہ اتنا کامیاب نہیں رہا، چین سے ہر قسم کی امداد مل رہی ہے، ہم مطمئن ہیں۔ نیز لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے کام جاری ہے، دبئی میں پاکستان کے 15 ارب ڈالرز کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ ہوچکا ہے، جس سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں مدد ملے گی جب کہ بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر اپوزیشن کی تنقید بڑھ گئی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ احتساب قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے، چھوٹے مقدمات میں الجھنے کی وجہ سے اس کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔
جبکہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کیس کا سامنا کرنے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نہیں بن سکتے، شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانا قوم سے مذاق ہوگا لہٰذا کسی صورت انہیں چیئرمین پی اے سی نہیں بنائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپنے 100 دن کی تکمیل پر مفصل اور جامع پروگرام قوم کے سامنے پیش کرے گی، کسی بھی حکومت میں پہلے سو دن حکومت کی آئندہ سمت کا تعین کرتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک حقیقی معنوں میں جمہوریت نہیں آئے گی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا اور بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی جمہوریت کے لیے کوشش نہیں کی گئی، پاکستان میں جمہوریت کی بجائے کلپٹوکریسی کا رواج رہا ہے، حکومت کرنے والے اقتدار کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ تقریباً 10ارب کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، منی لانڈرنگ پر قابو پانےکیلئے ہم بیرونی ممالک سے معاہدے کررہے ہیں، اب تک جو معلومات ملی ہیں اس سے اندازہ ہورہا ہےکہ کیوں اقامے کی ضرورت پیش آتی تھی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت 15 سے 20 ارب قانونی طریقوں سے بیرون ملک سے آرہا ہے، جبکہ 15سے 20 ارب حوالہ ہنڈی کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا جا رہا ہے، پاکستان کاشمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کی دولت حکمران اشرافیہ منی لانڈرنگ سے بیرون ممالک بھیجتی ہے، ملکی تاریخ میں تمام بیرونی امداد کے باوجود بھی ہمارا شمار تیسری دنیا کے ملکوں میں کیا جاتا ہے۔
عمران خان نےکہا کہ بدقسمتی سے ہمیں اب تک پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اس ملک میں کتنے وسائل موجود ہیں، حکومت میں آکر دیکھا اب تک صرف تیل اور گیس کے شعبے میں صرف 6 فیصد حصہ ہی استعمال ہوا ہے، تیل اور گیس کے علاوہ یہاں کیا کیا وسائل ہیں، جسکی دریافت کے لیے کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔
وزیراعظم کا کہناتھاکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں اداروں کوجان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے، میرٹ کو نظر انداز کرکے اداروں پر اپنے من پسند افراد کو تعینات کیا جاتا ہے اور ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ حکمران اشرافیہ کی چوری میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ جبکہ وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے، ہماری جنگ ڈیموکریٹس کےخلاف نہیں بلکہ ملک تباہ کرنے والوں کے خلاف ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی 55 نشستوں پر محض تین، چار ہزار کے مارجن سے ہاری، 14 سیٹیں قومی اسمبلی جب کہ 40 نشستیں صوبائی اسمبلی کی تھیں، اپوزیشن کو واضح کہاکہ جن جن نشستوں پر اعتراض ہے وہ حلقے کھلواسکتے ہیں، کے پی میں روایت ہےکسی پارٹی کو ایک دفعہ منتخب کرنے کے بعد اس کو دوبارہ چانس نہیں دیتے، خیبرپختونخوا کے صوبے کی عوام نے پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت سے دوبارہ کامیاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اس لیے شورکیوجہ خیبرپختونخوا سے ان کا صفایا ہے، اب دیگر جگہوں سے بھی انکا صفایا ہونے والا ہے۔
وزیراعظم نے بتایاکہ جب ہم نے اقتدار کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکا سامنا تھا، فوری طور پر ان دو مسائل سے نمٹنے کے لیے دوست ملکوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا، شکر ہے کہ دوست ملکوں کی مدد سے وقتی طور پر اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے،یہ وقتی اقدامات ہیں جسکا ہمیں احساس ہیں۔ اپنی معیشت کی مستقل بہتری کیلئے 4 چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، برآمدات بڑھانی ہیں، سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے اور بیرون ملک سے ترسیلات کو بڑھانا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کوسہولیات دی جارہی ہیں تاکہ وہ بینکوں سے پیسہ ملک بھیجیں، اس وقت ملک میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، کوشش ہے سرمایہ کاری میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو جس سےملک ترقی کرے گا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر میں 2013 میں گردشی قرضہ 400 ارب تھا، جبکہ 2018 میں یہ 200 ارب تک پہنچ گیا،پی آئی اے میں 400 ارب، ، گیس کے شعبے میں خسارہ 150 ارب، پاکستان اسٹیل کا 400 ارب، یوٹیلٹی اسٹورز14 ارب اور پوسٹل 9 ارب کے خسارے میں ہے، ان مشکلات پر آہستہ آہستہ قابو پائیں گے۔ جبکہ ایف آئی اے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، نیب خود مختار ادارہ ہے، امید ہے نیب اس امر کا جائزہ لے گاکہ موجودہ استعداد کی بنیاد پر کتنے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کے دعوؤں کے برعکس ملک میں کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں، لیڈر حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر اپنا لائحہ عمل اور حکمت عملی میں تبدیلی لاتا ہے، قومیں محض وسائل سے نہیں بلکہ احساس سے بنتی ہیں، غریب طبقے کا احساس ہونا چاہیے۔ آئندہ چند روز میں تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمےکیلئےجامع اور مفصل پروگرام پیش کررہے ہیں، موجودہ دور میں مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔
(لوکل ٹی وی رپورٹ)



اسلام آباد،ریڈزون میں بنا شناخت تبادلے پر پابندی


اسلام آباد پولیس نے اپنےفیس بک پیج پر عوام کو مطلع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریڈزون میں شناخت کے بغیر داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ریڈزون کے چاروں اطراف ناکوں پر گاڑی اور شہریوں کی چیکنگ اور شناخت کی جائے گی۔ جس کے بعد ہی شہریوں کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ اسلام پولیس نے شہریوں سے شناختی کارڈ ہمراہ رکھنے کی درخواست کی ہے۔ تاکہ کسی قسم کی تکلیف و پریشانی سے بچا جا سکے۔

فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس

(اسلام آباد) سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی  نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے۔
سماعت کے آغاز پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کے روبرو پیش ہوکرکہا کہ 'اٹارنی جنرل موجود نہیں، لہذا سماعت ملتوی کر دی جائے'۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ 'اٹارنی جنرل کدھر ہیں؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 'چیف جسٹس ثاقب نثار کی طلبی کے باعث اٹارنی جنرل لاہور میں ہیں،
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 'چیف جسٹس نہیں عدالت ہدایات دیتی ہے، ہم بھی تو عدالت ہیں اور یہ تاریخ بھی اٹارنی جنرل کی خواہش پر دی تھی'۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ 'پاکستان بند ہو گیا، اس سے اہم کیس کیا ہو سکتا ہے'۔
ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا، 'یہ مذاق نہیں ہے، اٹارنی جنرل کو تنخواہ کون دیتا ہے؟
جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 'اٹارنی جنرل کو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ ملتی ہے'۔
جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 'ٹیکس سے تنخواہ ملتی ہے تو وہ جوابدہ ہیں'۔
انہوں نے کہا کہ 'اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے،  اسے دفن کر دیں'۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیئے کہ 'بتایا جائے پاکستان کو فعال ریاست بنانا ہے، اسے قانون کے ذریعے چلانا ہے یا اسٹریٹ پاور سے؟'
ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا، 'کیا اُس وقت دھرنا دینے والے لوگوں نے قوم سے معافی مانگی؟ یہاں سپریم کورٹ کے باہر بھی دھرنا ہوا، ججز عدالت نہیں آسکتے تھے۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 'اس عدالت کا مینڈیٹ آئین اور پاکستان ہے'۔
تاہم عدالت نے الیکشن کمیشن ودیگر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے عدالت میں نئی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔ جبکہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور سیکریٹری اطلاعات کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔
(لوکل ٹی وی رپورٹ)