Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» »Unlabelled »



اسلام آباد: جو لیڈر حالات کے مطابق یوٹرن نہ لے، وہ لیڈر ہی نہیں کیونکہ ہٹلر اور نپولین نے یوٹرن نہ لے کر بڑی شکست کھائی۔ وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات  کیں۔ ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے اپنے کرکٹ کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک حکمت عملی بناکر میدان میں اترتے تھے، اگر  جسکے خلاف اگر مخالف ٹیم کوئی اور حکمت عملی بنالیتی تھی تو ہمیں یک دم اپنی حکمت عملی بدلنا پڑتی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی گفتگو کے دوران نپولین اور ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ' جب  آپ جارہے ہوں اور سامنے دیوار ہو تو آپ کو اِدھر اُدھر راستہ تلاش کرنا چاہیے'۔ انکا کہنا تھا کہ 'جو لیڈر حالات کے مطابق یوٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں، جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں ہوتا، ہٹلر اور نپولین یوٹرن نہ لے کر نقصان میں گئے'۔
مزید برآں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'یوٹرن لینا اسٹریٹجی کا حصہ ہوتا ہے اور تاریخ میں بڑے بڑے لوگوں نے یوٹرن لے کر چیزیں بہتر کی ہیں'۔
 انہوں نے کہا کہ 'یوٹرن لینے اور جھوٹ بولنے میں فرق ہے، نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں، جھوٹ بولا'۔
دورہ چین پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دورۂ چین کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، اس بار چین کا دورہ جتنا کامیاب رہا کسی وزیراعظم کا دورہ اتنا کامیاب نہیں رہا، چین سے ہر قسم کی امداد مل رہی ہے، ہم مطمئن ہیں۔ نیز لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے کام جاری ہے، دبئی میں پاکستان کے 15 ارب ڈالرز کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ ہوچکا ہے، جس سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں مدد ملے گی جب کہ بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر اپوزیشن کی تنقید بڑھ گئی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ احتساب قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے، چھوٹے مقدمات میں الجھنے کی وجہ سے اس کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔
جبکہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کیس کا سامنا کرنے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نہیں بن سکتے، شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانا قوم سے مذاق ہوگا لہٰذا کسی صورت انہیں چیئرمین پی اے سی نہیں بنائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپنے 100 دن کی تکمیل پر مفصل اور جامع پروگرام قوم کے سامنے پیش کرے گی، کسی بھی حکومت میں پہلے سو دن حکومت کی آئندہ سمت کا تعین کرتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک حقیقی معنوں میں جمہوریت نہیں آئے گی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا اور بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی جمہوریت کے لیے کوشش نہیں کی گئی، پاکستان میں جمہوریت کی بجائے کلپٹوکریسی کا رواج رہا ہے، حکومت کرنے والے اقتدار کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ تقریباً 10ارب کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، منی لانڈرنگ پر قابو پانےکیلئے ہم بیرونی ممالک سے معاہدے کررہے ہیں، اب تک جو معلومات ملی ہیں اس سے اندازہ ہورہا ہےکہ کیوں اقامے کی ضرورت پیش آتی تھی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت 15 سے 20 ارب قانونی طریقوں سے بیرون ملک سے آرہا ہے، جبکہ 15سے 20 ارب حوالہ ہنڈی کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا جا رہا ہے، پاکستان کاشمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کی دولت حکمران اشرافیہ منی لانڈرنگ سے بیرون ممالک بھیجتی ہے، ملکی تاریخ میں تمام بیرونی امداد کے باوجود بھی ہمارا شمار تیسری دنیا کے ملکوں میں کیا جاتا ہے۔
عمران خان نےکہا کہ بدقسمتی سے ہمیں اب تک پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اس ملک میں کتنے وسائل موجود ہیں، حکومت میں آکر دیکھا اب تک صرف تیل اور گیس کے شعبے میں صرف 6 فیصد حصہ ہی استعمال ہوا ہے، تیل اور گیس کے علاوہ یہاں کیا کیا وسائل ہیں، جسکی دریافت کے لیے کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔
وزیراعظم کا کہناتھاکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں اداروں کوجان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے، میرٹ کو نظر انداز کرکے اداروں پر اپنے من پسند افراد کو تعینات کیا جاتا ہے اور ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ حکمران اشرافیہ کی چوری میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ جبکہ وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے، ہماری جنگ ڈیموکریٹس کےخلاف نہیں بلکہ ملک تباہ کرنے والوں کے خلاف ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی 55 نشستوں پر محض تین، چار ہزار کے مارجن سے ہاری، 14 سیٹیں قومی اسمبلی جب کہ 40 نشستیں صوبائی اسمبلی کی تھیں، اپوزیشن کو واضح کہاکہ جن جن نشستوں پر اعتراض ہے وہ حلقے کھلواسکتے ہیں، کے پی میں روایت ہےکسی پارٹی کو ایک دفعہ منتخب کرنے کے بعد اس کو دوبارہ چانس نہیں دیتے، خیبرپختونخوا کے صوبے کی عوام نے پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت سے دوبارہ کامیاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اس لیے شورکیوجہ خیبرپختونخوا سے ان کا صفایا ہے، اب دیگر جگہوں سے بھی انکا صفایا ہونے والا ہے۔
وزیراعظم نے بتایاکہ جب ہم نے اقتدار کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکا سامنا تھا، فوری طور پر ان دو مسائل سے نمٹنے کے لیے دوست ملکوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا، شکر ہے کہ دوست ملکوں کی مدد سے وقتی طور پر اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے،یہ وقتی اقدامات ہیں جسکا ہمیں احساس ہیں۔ اپنی معیشت کی مستقل بہتری کیلئے 4 چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، برآمدات بڑھانی ہیں، سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے اور بیرون ملک سے ترسیلات کو بڑھانا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کوسہولیات دی جارہی ہیں تاکہ وہ بینکوں سے پیسہ ملک بھیجیں، اس وقت ملک میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، کوشش ہے سرمایہ کاری میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو جس سےملک ترقی کرے گا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر میں 2013 میں گردشی قرضہ 400 ارب تھا، جبکہ 2018 میں یہ 200 ارب تک پہنچ گیا،پی آئی اے میں 400 ارب، ، گیس کے شعبے میں خسارہ 150 ارب، پاکستان اسٹیل کا 400 ارب، یوٹیلٹی اسٹورز14 ارب اور پوسٹل 9 ارب کے خسارے میں ہے، ان مشکلات پر آہستہ آہستہ قابو پائیں گے۔ جبکہ ایف آئی اے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، نیب خود مختار ادارہ ہے، امید ہے نیب اس امر کا جائزہ لے گاکہ موجودہ استعداد کی بنیاد پر کتنے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کے دعوؤں کے برعکس ملک میں کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں، لیڈر حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر اپنا لائحہ عمل اور حکمت عملی میں تبدیلی لاتا ہے، قومیں محض وسائل سے نہیں بلکہ احساس سے بنتی ہیں، غریب طبقے کا احساس ہونا چاہیے۔ آئندہ چند روز میں تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمےکیلئےجامع اور مفصل پروگرام پیش کررہے ہیں، موجودہ دور میں مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔
(لوکل ٹی وی رپورٹ)



پاک اردو ٹیوب isloonews4u

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں