کرتار پور راہداری
اگست 2018 میں وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کے موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی ملاقات بھارت سے آئے مہمان وزیر برائے سیاحت و ثقافت (بھارت) نوجوت سنگھ سدھو سے ہوئی۔ اس دوران آرمی چیف نے گرونانک صاحب کی 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سدھو کو دی۔ جس کا اعلان نوجوت سنگھ سدھو نے وزیراعظم کی حلف برداری کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔
کرتار پور راہداری سکھوں کے مقدس مزارات ڈیرہ بابا نانک صاحب اور گردوارا دربار صاحب کو جوڑتا ہے جوکہ بالترتیب ہندوستان اور پاکستان میں واقع ہیں۔ اس راہداری کا بنیادی مقصد بھارت سے آنے والے سکھ زائرین کیلئے آسانی پیدا کرنا ہے۔ جبکہ اس راہداری سے پوری دنیا کو یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ کرتارپور کے راستے بھارت سے گردوارا دربار صاحب کی زیارت کرنے کیلئے سکھ برادری بغیر ویزہ کے آسکیں گے لیکن انہیں گردوارا دربار صاحب سے کہی اور نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد وزیراعظم عمران خان نے 28 نومبر 2018 کو ضلع نارووال میں رکھا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ دو ہندوستانی یونین منسٹرز ہرسمرت کور بادل، ہردیپ سنگھ پوری، ہندوستان کے وزیر برائے سیاحت وثقافت نوجوت سنگھ سدھو اور امرتسر کے ایم پی گرجیت سنگھ آجلا بھی ہمراہ تھے۔ کرتارپور کوریڈور کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، بھارتی وزیروں پر مشتمل وفد، مختلف ممالک کےسفارتکاروں، عالمی مبصرین اور سکھ برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

No comments: