فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس
(اسلام
آباد) سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس میں جسٹس مشیر
عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔سماعت
کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ
اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے۔
سماعت کے آغاز پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کے
روبرو پیش ہوکرکہا کہ 'اٹارنی جنرل موجود نہیں، لہذا سماعت ملتوی کر دی جائے'۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ 'اٹارنی جنرل کدھر ہیں؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 'چیف جسٹس ثاقب نثار کی
طلبی کے باعث اٹارنی جنرل لاہور میں ہیں،
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 'چیف جسٹس نہیں عدالت
ہدایات دیتی ہے، ہم بھی تو عدالت ہیں اور یہ تاریخ بھی اٹارنی جنرل کی خواہش پر دی
تھی'۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید
کہا کہ 'پاکستان بند ہو گیا، اس سے اہم کیس کیا ہو سکتا ہے'۔
ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا، 'یہ مذاق نہیں ہے، اٹارنی جنرل کو تنخواہ
کون دیتا ہے؟
جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 'اٹارنی جنرل کو عوام کے ٹیکس
سے تنخواہ ملتی ہے'۔
جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 'ٹیکس سے تنخواہ
ملتی ہے تو وہ جوابدہ ہیں'۔
انہوں نے کہا کہ 'اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت
کو بتا دے، اسے دفن کر دیں'۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیئے کہ 'بتایا جائے پاکستان
کو فعال ریاست بنانا ہے، اسے قانون کے ذریعے چلانا ہے یا اسٹریٹ پاور سے؟'
ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا، 'کیا اُس وقت دھرنا دینے والے لوگوں
نے قوم سے معافی مانگی؟ یہاں سپریم کورٹ کے باہر بھی دھرنا ہوا، ججز عدالت نہیں
آسکتے تھے۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 'اس عدالت کا مینڈیٹ آئین اور
پاکستان ہے'۔
تاہم عدالت نے الیکشن کمیشن ودیگر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس
مسترد کرتے ہوئے عدالت میں نئی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔
جبکہ آئندہ سماعت پر اٹارنی
جنرل اور سیکریٹری اطلاعات کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے فیض آباد دھرنا
ازخود نوٹس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔
(لوکل ٹی وی رپورٹ)
No comments: