Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» »Unlabelled »

سانحہ 12 مئی

سانحہ 12 مئی 2007 پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن سندھ کے دارالحکومت اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس وقت کی حکمران جماعت ایم کیو ایم اور اپوزیشن جماعتیں پی پی پی، اے این پی اور پی کے میپ کے کارکنان آمنے سامنے آگئے تھے۔ جنکے درمیان  خون ریز جھڑپیں ہوئی جس میں 48 کے لگ بھگ لوگ لقمہ اجل اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
جاں بحق افراد میں سے 15 افراد کا تعلق اے این پی، 14 کا تعلق پی پی پی اور دیگر کا تعلق پی کے میپ سے تھا۔
یہ واقع کیوں پیش آیا؟ اس کو جاننے کیلئے تھوڑا سا پیچھے جانا پڑے گا۔  لاپتہ افراد کے کیس اور پاکستان سٹیل ملز میں کرپشن کیس میں اس وقت کے حکومت اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے درمیان تنازعات پیدا ہوئے جسکی وجہ سے  9 مئی 2007 کو اس وقت کے حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے کے غلط استعمال اور دیگر الزامات کی بنا پر عہدے سے برطرف کیا۔  جس پر ملک بھر میں ہنگامے اور احتجاج شروع ہوئے۔ 12 مئی 2007 کو برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوئے جہاں پر انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے یوم قیام کے 50ویں سالگرہ کے تقریب میں شرکت اور وہاں خطاب کرنا تھا۔
حالات و واقعات کے پیش نظر اس وقت کے سندھ حکومت نے رات گئے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی قائم کی گئی۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو ڈیوٹی پر رہنے کی ہدایات بھی دی گئی۔ فائر بریگیڈ کے عملے کو بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی۔
چونکہ برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے محمد علی جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈنگ کرنی تھی تو اس ائیرپورٹ کو جانے والے تمام شاہراہیں بند کی گئی۔ جب 11 بجکر 50 منٹ پر چیف جسٹس کی فلائٹ کراچی ائیرپورٹ پر اتری تو شہر بھر میں ہنگامے بھرپا ہوئے۔ گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کو آگ لگائی گئی، فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ اس پر تشدد حالات کی وجہ سے اس وقت کے برطرف چیف جسٹس ائیر پورٹ پر ہی محصور ہوکر رہ گئے۔ حالانکہ مشرف حکومت نے انکو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جانے کی پیش کش کی جوکہ انہوں نے ٹھکرا دی اور بذریعہ سڑک سفر پر ڈھٹے رہے۔
ان تمام پر تشدد حالات میں میڈیا ہاؤسز کو بھی نہیں بخشا گیا۔ کئی میڈیا دفاتر پر حملے ہوئے۔ فائرنگ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی۔
ان تمام پرتشدد حالات کے پیش نظر اس وقت کے سندھ حکومت نے شام کو افتخار محمد چوہدری کو ڈپورٹ کرنے کا اعلامیہ جاری کیا۔ جس پر افتخار محمد چوہدری نے اپنے سپورٹرز سے خطاب کرنے کا فیصلہ معطل کیا اور سندھ حکومت سے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انکو سیکورٹی فراہم کیجائے گی اور انکے ہمراہ باقی وکیلوں کے وفد کو جانے دیا جائے گا۔
 اس واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر مزدور کار اور طلباء شامل تھے۔ حال ہی میں اینٹی ٹیرارزم کورٹ نے کراچی کے مئیر وسیم اختر اور دیگر  21 افراد  پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر مزید   گواہان کو طلب کرنے کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

پاک اردو ٹیوب isloonews4u

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں