اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کو شفاف بنانے کی ہدایت کردی، جبکہ بھارت کو 14 جنوری تک وکیل کرنے کے مہلت بھی دے دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجر بنچ نے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل شاہ نواز نون عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوال اٹھایا کہ کلبھوشن کیس سے متعلق بھارت کا کیا موقف ہے؟
جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ کلبھوش یادیو کیس میں قونصلر رسائی کی پیشکش بھارت کیلئے ابھی بھی موجود ہے، بھارتی ہائی کمیشن اگر کوئی بات کہنا چاہتا ہے تواپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتا سکتا ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ اس سلسلے میں نئی دہلی میں میٹنگز جاری ہیں، جب بھارت تیار تھا تب کیس سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کی گئی، اب بھارت کو 3 ہفتے کا وقت درکار ہے۔
اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ عدالت چاہتی ہے کہ ملزم کو عالمی عدالت انصاف کے تناظر میں شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے ہو، جبکہ اس کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ہر صورت عمل ہوگا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارت کا کلبھوشن یادیو کا وکیل کرنے کیلئے 14 جنوری تک کا وقت دیکر سماعت تب تک ملتوی کردی۔

No comments: