Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» »Unlabelled »

 اکیسویں صدی اور ہم

اکیسویں صدی کے جدید ترین دور میں بھی ہمارے وطن عزیز میں خواتین کے ساتھ مختلف قسم کی زیادتیاں کی جارہی ہیں۔ ہمارے ہاں زیادہ تر بچے کی پیدائش کو خوش قسمتی جبکہ بچی کی پیدائش کو بدقسمتی تصور کیا جاتا ہے۔جب اکثر گھرانوں میں بچی کی پیدائش ہوتی ہے تو اس گھرانے کے اکثر افراد کے ماتھے پر بل دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کی رحمت ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ یہی بچی گھر کے ہر فرد کے آنکھ کا تارا بن جاتی ہے۔ 14یا 16سال کی عمر تک اس بچی کو گھر کے تمام افراد پیار ومحبت سے پیش آتے ہیں۔ لیکن کسی بھائی کے بہن کی حیثیت سے ان دونوں بچوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہونے کی صورت میں بچی کی ڈانٹ ڈپٹ جبکہ لڑکے کی دادرسی اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ، جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ ظلم اور بربریت کا ایک چہرہ تب ہمارے سامنے کھل کر آتا ہے، جب بچوں کی تعلیم وتربیت کی باری آتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر افراد نرینہ بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات سے آراستہ اداروں میں تعلیم مہیا کرتے ہیں۔ جبکہ بچیوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں کئی لوگ جن کی ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اکثریت پائی جاتی ہے،غفلت برتتے ہیں۔ وطن عزیز کے چند ایک بڑے شہروں کے علاوہ موجودہ دور میں بھی کئی چھوٹے شہر اور اکثر دیہات ایسے ہیں، جہاں بچیوں کیلئے مڈل سکول یا ڈگری کالج سرے سے موجود ہی نہیں۔ خیر اس معاملے میں تومردوں کے ساتھ بھی برابر کا رویہ رکھا گیا ہے۔ لیکن خواتین کی نسبت تھوڑا کم ہے ۔ اب بھی وطن عزیز میں کئی ایسے دیہات موجود ہیں۔جہاں لڑکیاں تو سرفہرست ہے ہی لیکن لڑکوں کیلئے بھی مڈل سکول تک نہیں ہے۔ ایسے پسماندہ علاقوں کے لڑکے دوردراز کے علاقوں میں پیدل جاکر تعلیم جیسے زیور سے بحرہ ور ہوتے ہیں مگر لڑکیاں اپنے اس بنیادی حق سے محروم رہتی ہیں۔ اکیسویں صدی جس کو خواتین کے ساتھ منسوب کرلیا گیا ہے، اور ہرطرف خواتین ہی سے متعلق گفتگو ہر خاص وعام کی زبان زد عام ہے۔ آج اگر دیکھا جائے تودنیا کے بیشتر ممالک میں خواتین زندگی کی بھاگ دوڑ میں مردوں سے پیچھے نہیں۔ انہی ممالک میں خواتین کو مردوں کے برابر بنیادی حقوق مل رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے ان پر طرح طرح کی قدغنیں لگادی گئی ہے، انکو تعلیم سے دور کیا جاتا رہا۔ مگر اب حالات انگڑائی لے رہے ہیں۔ اور خواتین کو بھی ہمارے ملک پاکستان میں انکو حقوق ملنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ جس کیلئے دھڑادھڑ قوانین وضع کئے جارہے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے بھی خواتین پر ظلم تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ آئے روز اخبارات ، الیکٹرانگ میڈیا اور دیگر ذرائع سے اس قسم کے ناخوشگوار واقعات رپورٹ ہورہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین تو بنائے گئے ہیں۔ لیکن ان قوانین سے متعلق خواتین کو آگاہی ہی نہیں۔ تو اس معاملے میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر ذرائع سے ایسے پروگرام اور اشتہارات وغیرہ چلائے جانے چاہئے ، جس سے خواتین میں ان پر ظلم اور تشدد ہونے کی صورت میں آواز اٹھانے اور قانونی کارا جوئی سے متعلق آگاہی اور شعور پیدا ہوسکے۔ اور وہ خواتین جن کے ساتھ واقعی میں زیادتی ہورہی ہے تو ان کی مکمل داد رسی کی جاسکے۔ اور ان کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جا سکے۔ زندگی میں ہرفیصلے یا ہر مسئلے کے دورخ ہوتے ہیں۔ویسے تو کوئی بھی فیصلہ یا قانون اچھائی کو پروان چڑھانے کیلئے اور برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مرتب کئے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ان قوانین اور فیصلوں کا بعض اوقات غلط استعمال کیا جاتاہے۔ اس معاملے میں کچھ خواتین اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ایسے قوانین کا غلط استعمال کرتی ہے۔ جسکی وجہ سے یہ بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ ان کے خلاف بھی قوانین کے مطابق کارا جوئی کی جائے اور ان کو سخت سے سخت سزائیں دی جائے۔ تاکہ ایسے میں کچھ مظلوم مرد بھی محفوظ رہ سکیں۔ اور ان کے ساتھ بھی پورا پورا انصاف ہوسکیں۔ یعنی کہ یہ لحاظ بھی کیا جائے کہ خواتین کے حقوق کے چکر میں مرد بیچاروں کے حقوق کو مجروح نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ قوانین ہم سے ہیں ۔ قوانین منظم معاشرے کی تشکیل کیلئے بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی چارا گر نہیں۔ اس معاملے میں ہمیں بھی اپنے معاشرتی رویے کو بدلنا پڑے گا۔ میرے نزدیک خواتین کی تعلیم وتربیت مردوں سے زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ بچوں کی اصل پرورش ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔ اور اگر ماں تعلیم یافتہ نہ ہو ، تو اگلی نسل کا روشن مستقبل خطرے میں پڑجاتا ہے۔ لڑکی تعلیم یافتہ ہونے کی صورت میں شادی کے بعد میاں بیوی کے گھریلو معاملات ومسائل نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ طے پاتے ہیں۔ لیکن لڑکی کی تعلیم یافتہ نہ ہونے کی صورت میں "تو سیر میں سوا سیر"والی صورتحال ہوتی ہے۔ جس سے کئی گھرانے برباد ہوتے ہیں۔ جس سے متعلق کئی مثالیں ہمارے اردگرد بے شمار پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بروز ہفتہ کو ہمارے پیارے ملک سمیت دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کا عالمی دن منایا گیا، جس کا مقصد عوام میں خواتین کے حقوق اور ان پر تشدد کے خاتمہ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ خواتین پر تشدد کے خاتمے کی مہم 25نومبر سے 10دسمبر تک جاری رہے گی ، رواں سال اس کا موضوع "اپنے پیچھے کسی کو نہ چھوڑو"رکھا گیا ہے۔ خواتین پر تشدد دنیا میں سب سے زیادہ تباہ کن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ضرورت اس امر کی ہے، کہ ہم اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس پر توجہ دے۔ اور خواتین کو ملک وقوم کی ترقی میں برابر کا موقع فراہم کریں اور ان کے تعلیم وتربیت پر پوری پوری توجہ دی جائے، جائیداد میں سے ان کو بھی شریعت کے مطابق حصہ دیا جائے، جو کہ ہمارے ملک میں یہ فعل بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔لیکن ہمیں اپنے اس رویے کو بدلنا پڑے گا ۔جبکہ ہمیں صرف لفظی لائحہ عمل اور اقدامات کرنے سے آگے بڑھ کر عملی ہونا پڑے گا، تب ہی تو ہم ترقی کرسکیں گے۔ یاد رہے یہ کالم گزشتہ سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک ہفت روزہ کیلئے لکھا گیا تھا لیکن ایڈیٹر کے جذبات اس کالم سے مجروح ہوئے اور اپنے ہفت روزہ میں کالم شائع کرنے سے انکار کردیا۔ جسے میں آج اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں۔

پاک اردو ٹیوب isloonews4u

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں