Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» »Unlabelled »

 سکواش کی دنیا کا راجا



آج سکواش کے میدان سے کرہ ارض پر اپنی پہچان بنانے والی ہستی "جہانگیر خان" کا جنم دن ہے۔ جہانگیر خان 10 دسمبر 1963 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد کا دراصل پشاور کے علاقے نوے کلی سے تعلق ہے۔
جہانگیر خان نے ابتدائی کوچنگ اپنے والد "روشن"،  بڑے بھائی طورسم اور کزن رحمت خان سے حاصل کیں۔
بچپن میں جہانگیر خان کے کئی ہرنیا آپریشن ہوئے جسکی وجہ سے وہ کافی کمزور تھے اور اسی بنا پر ڈاکٹروں نے انہیں جسمانی مشقت و کھیل کود سے دور رکھنے کی ہدایت کی۔ 1979 میں جسمانی کمزوری ہی کے باعث پاکستانی سلیکٹرز نے انہیں عالمی چیمپئین شپ  جو کہ آسٹریلیا میں کھیلی جانی تھی کیلئے منتخب نہیں کیا۔ جس پر جہانگیر خان نے ایک لوکل چیمپئین شپ ایونٹ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ چیمپئین شپ اپنے نام کرلی۔ اس وقت انکی عمر 15 برس تھی اور ساتھ یہ چیمپئین شپ جیتننے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
نومبر 1979 میں جہانگیر خان کے بڑے بھائی طورسم کی آسٹریلیا میں  سکواش ٹورنامنٹ میچ کے دوران دل کے دورے سے اچانک موت ہوگئی۔ جس پر پہلے تو انہوں نے اس خاندانی کھیل سے دستبردار ہونے کا سوچا لیکن پھر انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے سکواش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیابیاں سمیٹنے لگے۔
70 کی دہائی میں سکواش کے میدان میں کھلبلی مچانے والے آسٹریلیا کے نامور کھلاڑی "جیاف ہنٹ" کو 1981 میں عالمی چیمپئین شپ کے فائنل میچ میں شکست دے کر یہ چیمپئن شپ اپنے نام کی، اس وقت انکی عمر 17 سال تھی اور یہ چیمپئین شپ جیتنے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز بھی انہوں نے اپنے نام کیا۔ اس ٹورنامنٹ سے جہانگیر خان نے جیت کا مزہ چکھا تو مسلسل 555 میچ میں ناقابل شکست رہے جسکا دورانیہ 5 سال اور 8 مہینے بنتا ہے یعنی کہ 1981 سے لیکر 1986 تک ناقابل شکست رہے۔ اسی دوران 1982 میں جہانگیر نے انٹرنیشنل سکواش پلئیرز ایسی ایشن چیمپئین شپ میں  ایک پوائنٹ بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور یہ ٹورنامنٹ بھی اپنے نام کیا ۔ بالآخر انکا یہ سفر 1986 میں تمام ہوا جب نیوزی لینڈ کے کھلاڑی "روز نارمن" نے انہیں شکست دی۔  اس ہار کے بعد جہانگیر خان دلبرداشتہ نہیں ہوئے اور وہ ایک بار پھر 9 ماہ تک ناقابل شکست رہے۔ یادرہے روز نارمن مسلسل پانچ سال تک جہانگیر خان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے تھے۔
جہانگیر خان 1982 سے 1993 کے دوران برٹش اوپن چیمپئین شپ 10 بار جیتتے رہے۔ جبکہ 6 بار عالمی اوپن چیمپئین شپ بِنا ایک گیم ڈراپ کئے جیتتے رہے۔ سکواش کی تاریخ میں دوسرا لمبا میچ  جوکہ 2 گھنٹے 46 منٹ جاری رہا  کھیلنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل رہا۔
جہانگیر خان نے 1993 میں کراچی میں کھیلی جانے والی ورلڈ ٹیم چیمپئین شپ میں فتح یابی کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ان کے اس اعلیٰ کھیل اور کامیابیوں پرانہیں "حسن کارکردگی" اور سول ایوارڈ "حلال امتیاز" سے بھی نوازا گیا۔  1990 میں وہ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے چئیرمین منتخب ہوئے۔ 1997 میں پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ جبکہ 1998 میں جہانگیر خان ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ سلسلہ یہاں نہیں رکھتا بلکہ 2002 میں وہ ورلڈ سکواش فیڈریشن ہی کے صدر منتخب ہوئے۔ 2004 میں دوبارہ وہ ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے اور 2008 تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔
جہانگیر خان کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے جیسے کہ وہ جیت کا مزہ بھی چکھتے رہے لیکن انکو کئی بار شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ایک اہم چیز انکی زندگی سے سیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے ہمت۔ حوصلہ۔ سو جس کے پاس ہمت ہے، جسکے حوصلے بلند ہو خواہ حالات کیسے بھی ہو، باہمت اور حوصلہ مند شخص اپنی منزل کی جانب گامزن رہتا ہے۔ آج سکواش کھیل کے راجا کا جنم دن ہے میری طرف سے انکو جنم دن مبارک ہو۔ آپ سب کو اپنے فیلڈ میں، اپنے شعبے میں جہانگیر خان بننے کی ضرورت ہے۔




پاک اردو ٹیوب isloonews4u

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں