Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» »Unlabelled »

حج پر سیاست
موجودہ حکومت نے رواں سال 2019ء کیلئے حج سکیم کا اعلان کیا۔ جس کے تحت حکومت نے حج سکیم پر سبسڈی ختم کردی اور اسطرح حج اخراجات میں 156975 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اس سال شمالی زون کے حج4،36،975 روپے اور جنوبی زون کے 4،26،975 روپے ہونگے۔ جو کہ گزشتہ سال بالترتیب 2،80،000 اور 2،70،000 تھے۔ رواں سال 1،79،210 پاکستانی حج کا فریضہ ادا کرینگے۔ وزارت مذہبی امور نے 45،000 روپے فی حاجی سبسڈی منظور کرانے  کی سفارش کی جو کہ وفاقی کابینہ نے مسترد کردی۔   سرکاری کوٹہ 60 فی صد، پرائیویٹ کوٹہ 40 فیصد، معذکتوروں کیلئے1۔5 فیصد، جبکہ بزرگ شہریوں کیلئے 10 ہزار افراد کا کوٹہ مختص کیا گیا۔ جبکہ وفاقی کابینہ نے اس سال حج کیلئے  کوئٹہ اور فیصل آباد سے براہ راست پروازیں چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے گلگت بلتستان کا حج کیمپ لگانے کے ساتھ ساتھ 20 فروری سے حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ کیا۔
وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن میدان میں اتر آئی اور حکومت پر تیر برسائے گئے۔ یہاں جتنے منہ اتنی باتیں سننے کو ملی۔ کسی نے کہا کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت نے عوام کا مکہ اور مدینہ جانا مشکل بنا دیا، تو کسی نے یہ الزام لگایا کہ حکومت نے حج کو ذریعہ آمدن بنادیا۔ الزامات کی بارش کا سلسلہ یہاں نہیں تھما بلکہ مزید آگے بڑھتا گیا، ایک صاحب نے اس فیصلے کو حاجیوں پر ڈرون حملہ قرار دیا۔ تو ایک صاحب نے حج کو سونامی کی زد میں گردانا۔ ایک اور مجاہد اپوزیشن بول پڑے کہ موجودہ حکومت نیکی کاراستہ بند جبکہ  برائی کا راستہ کھول رہی ہے۔
جس پر حکومت کیجانب سے یہ کہا گیا کہ ریاست مدینہ کا مطلب  غریبوں کے پیسے سے لوگوں کو مفت حج کرانا نہیں، بلکہ عوام کو ریلیف دینا ہے۔ جس کی کوشش حکومت کرتی رہیگی۔ حکومتی اراکین نے حج سبسڈی کو عبادت کے بینادی فلسفے سے متصادم قرار دیا۔ مزید کہا کہ جس کے پاس پیسہ ہوگا وہ حج کریگا۔
حج ایک بنیادی فریضہ ہے جو کہ استطاعت رکھنے والوں پر فرض ہے۔ ہر وہ صاحب استطاعت شخص جو جیب سے حج کے اخراجات ادا کرسکتے ہوں۔ لیکن افسوس کہ ہم لوگوں اس فریضہ بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کو بھی کیش کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی کسی کو نیا اقتدار ملا تو اسنے ماڈرن مسلمان ہونے کا دعوی کیا۔ لیکن جب اقتدار کو خطرات درپیش ہوئے تو اسلام کا سہارہ لیا۔ ہمیں اپنا یہ رویہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ترک کرنا ہوگا۔ اسلام کو سیاست کی بھینٹ  چڑھانے سے اجتناب کرنا ہوگا ورنہ ہم بھی تاریخ کاحصہ بن کر رہ جائینگے۔ 

پاک اردو ٹیوب isloonews4u

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں