کورونا وائرس، دنیا اور ہم!
19 دسمبر 2019 کو کورونا نامی وائرس نے چین کے شہر ووہان میں سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی ممالک اور ہزاروں افراد کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جسے بعد ازاں 11 مارچ کو عالمی ادارہ برائے صحت نے وباء قرار دیا۔ اب تک کل 116 ممالک اس وائرس کی زد میں ہے اور 1لاکھ 31 ہزار 5 سو افراد اس وباء سے متاثر ہوچکے ہیں۔ جبکہ اب تک اس موذی مرض سے 4 ہزار 9 سو پچیس افراد جاں بحق اور 68ہزار 3 سو چوبیس مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ اس وباء سے چین، ایران اور اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور 29 فروری کو یہ وباء ایران کے راستے پاکستان تک پہنچ گئی۔ اور تاحال 21 افراد کو اس وباء نے متاثر کیا جس میں سے 2 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بار بار اس بات کا باور کراتے رہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر وفاقی حکومت کی تیاریاں مکمل ہیں اور تمام ائیرپورٹس و ڈرائی پورٹس پر سکریننگ کا عمل یقینی بنایا گیا ہے۔ لیکن ان تمام دعوؤں کے باوجود کورونا وائرس کا پاکستان میں ڈھیرے ڈالنا حکومت اور سکریننگ کے نظام پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔ بہرحال اب اگر یہ وباء ہم سے بغل گیر ہو ہی گئی ہے تو اب ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو مل کر اس وائرس سے نمٹنا ہوگا۔
چین جہاں سے یہ وباء پوٹھی تھی وہاں کی انتظامیہ نے دس روز کے مختصر ترین دورانیے میں ایک ہزار بیڈ پر مشتمل آئسولیشن سینٹر تیار کرچکا ہے۔ جبکہ ایران نے تو اس وباء کے سدباب کے پیش نظر جمعہ کے اجتماع پر بھی پابندی لگادی ہے۔ جبکہ سعودی عرب نے عمرہ پر پابندی لگادی اور بیرونی پروازیں منسوخ کردی ہے۔ فرانس کی بات کیجائے تو وہاں پر کیفیز، بارز، وغیرہ بند کردیے گئے ہیں۔
پاکستان میں دو روز قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سیکورٹی میٹینگ میں ملک بھر میں کورونا وائرس کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے، ایران و افغانستان کیساتھ بارڈر بھی دو ہفتے کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس وباء کے سدباب کے لئے 23 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی پریڈ بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور میں شیڈول کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے میچز بغیر تماشائیوں کے کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جبکہ گزشتہ روز میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے وفاقی دارالحکومت میں لوکل گورنمنٹ کے زیر انتظام تمام ہفتہ وار بازار اور تفریحی مقامات کو سیل کرنے کا نہایت ہی قابل تحسین قدم اٹھایا ہے جبکہ عوام کا داخلہ ممنوع قرار دیا ہے۔ جب کہ ملک بھر وفاقی و صوبائی حکومتوں نے شادی ہال، سینیماؤں سمیت دیگر عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی ہے۔
تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکومتی فیصلہ خوش آئند ہے لیکن ان ہوٹلوں کا کیا ہوگا؟ جہاں صفائی ستھرائی کا کوئی معقول نظام نہیں ہوتا، جہاں سینکڑوں افراد ایک ہی گلاس میں پانی پیتے ہیں، اور پانی کی بالٹی صبح بھر لی جاتی ہے اور شام تک اسی بالٹی میں چائے کے کپ دھوئے جاتے ہیں۔ دریں اثناء ہاتھ ملانے کا رواج ہمارے ہاں عام ہے جب کہ ہاتھ دھونے یا سینیٹائزر استعمال کرنے کا رواج بھی قدرے کم ہے۔ مندرجہ بالا تمام عادات کورونا وائرس کو مزید پھیلاتے ہیں۔
حکومت کو چاہئیے کہ احتیاطی تدابیر سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرے اور عوام کو بھی چاہئیے کہ مصافحہ کرنے اور بغل گیر ہونے کے بجائے السلام علیکم سے کام لیا جائے۔ کیونکہ اسلام میں سلام کرنے کا طریقہ السلام علیکم کہنا ہے مصافحہ یا بغل گیر ہونے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسکے علاوہ جتنے بھی لوگ مساجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں وہ انتہائی احتیاط سے کام لیں، اپنے جائے نماز ساتھ لیکر جائیں۔ جبکہ تمام عوامی مقامات پر صابن و سینیٹائزر رکھوائے جائیں تاکہ قیمتی جانیں
محفوظ رہیں۔


No comments: