ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوکر دم توڑ گئے، انہیں گاڑی میں سفر کے دوران گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں گھات لگائے بیٹے دہشت گردوں نے محسن فخری زادہ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کررہے تھے، ایرانی سائنسدان دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
محسن فخری زادہ ایرانی ڈیفنس منسٹری کے ایک ریسرچ آرگنائزیشن کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے، اور ایرانی نیوکلئیر پروگرام کے بانی بھی تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا کہ محسن فخری زادہ پر حملے کے وقت دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، جبکہ کئی حملہ آوروں کو مار دیا گیا ہے۔
یاد رہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک پریس کانفرنس میں باقاعدہ نام لے کر ایرانی سائنسدان کو دھمکی دی تھی۔
حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے واقعے پر فوری موقف سے انکار کردیا۔

No comments: