Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» » » پی ڈی ایم کا ہر جلسہ دوسرے جلسے سے بڑا ہوگا، ڈنڈا استعمال کرنے کے جواب میں کارکنان بھی ڈنڈا استعمال کریں، مولانا فضل الرحمن

فوٹو بشکریہ آن لائن

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم نے جنوری میں لانگ مارچ کا سوچا تھا لیکن حکومت چاہتی ہے جلد لانگ مارچ کیا جائے، اگر پولیس ڈنڈا استعمال کرے گی تو کارکنان بھی ڈنڈا ہی استعمال کریں، انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ تمام رکاوٹیں توڑ کر جلسہ گاہ میں آئیں۔

ملتان میں پی ڈی ایم قیادت کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کل ملتان کا عظیم الشان جلسہ ہر صورت ہو کر رہے گا، اگر کوئی اسے روکے گا تو عوام کا سمندر اسے بہا کرلے جائے گا۔ انہوں نے پولیس کی جانب پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے کارکنان کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ریاستی دہشت گردی پر اتر آئی ہے۔

مزید ان کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ، کراچی، اور کوئٹہ کے جلسوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کرکے حکومت سے بیزاری کا اظہار کیا ہے، جبکہ پی ڈی ایم کا ہر جلسہ دوسرے جلسے کا ریکارڈ توڑے گا۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلمان نہیں، مغرب شدت پسند ہے، آئے روز مسلمانوں کو مخلتف حربے استعمال کرکے اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کی سطح پر گستاخانہ رویہ امت مسلمہ کے خلاف اعلان جنگ ہوتا ہے۔

صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو مکمل ادراک ہے کہ عوام انہیں اپنا نمائندہ،  نہ ہی حکومت کرنے کا اہل سمجھتی ہے۔ پوری دنیا متفق ہے کہ کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان کی حکومت بہت پیچھے چلی گئی ہے۔ عام آدمی دو سال کے اندر ان کی حکومت سے براہ راست متاثر ہوا ہے۔ حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، جو ہی بیساکھیاں ہٹے گی حکومت نہیں رہیگی۔

اسی طرح سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ سیاست میں مصلحتیں آتی رہتی ہیں لیکن اصولی موقف پر کمپرومائز کرنے والا بندہ نہیں ہوں۔ حکومت نے کراچی میں پی ڈیم ایم کے اندر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی، لیکن پیپلز پارٹی کے دانشمندانہ رویے نے اسے ناکام بنا دیا۔

مزید برآں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے  کا فارمولا عمران خان کا تھا، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے ہندوستان میں شامل کرلیا گیا، کشمیر سے متعلق پاکستان کی سفارشی کوششیں کوئی نہیں۔ گلگت بلتستان کے مسئلے پر عوام اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا، جو کچھ ہندوستان نے کیا وہ اگر ہم یہاں کرے تو اصولی طور پر 1949 کے اقوام متحدہ کے  قراردادوں اور پاکستان کے موقف کا کیا بنے گا۔

اپوزیشن جلسوں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم جلسے کرتی رہینگی، تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے،اگر ریاست شہریوں کے تحفظ سے ہاتھ اٹھا لیں، تو رضا کار خود اجتماعات کو تحفظ فراہم کرینگے۔

سی پیک کے مستقبل کو تباہ کیا گیا ہے، جس سے گہرے دوست چائنہ کے اعتماد کو ٹھیس پنچی ہے، حکومت نئی قانون سازی کررہی ہے جس کے مطابق سی پیک کے چئیرمین یا عملے کو نیب یا احتسابی عملے سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

امریکی انتخابات کے بارے میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی امت مسلمہ اور ہمارے خطے کے بارے تبدیل نہیں ہوتی، ہمارا رد عمل ہونا چاہئیے کہ نہ ہی تعلقات خراب ہو اور نہ ان کے دباؤ میں ہماری پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔

پاک اردو ٹیوب isloonews4u

ہ۔ یہ ایک فرضی تحریر ہے یہاں پر آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, ادارہ ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز ادارہ کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں